وطن عزیز میں ہنگامہ خیزی جاری ہے۔ سیاست اور صحافت کا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ سیاست دان اپنی کہہ رہے ہیں اور صحافی اپنی سنا رہے ہیں۔ اس میں اگر کوئی خاموش ہے تو وہ عوام ہیں اور یہ خاموشی یقینا کسی طوفان کا پیش خیمہ ضرور بنے گی۔ آج کل خبروں کا اژدہام ہے لیکن ان خبروں میں ایک خبر جو کہیں دب گئی ہے وہ ہمارے ان بھائیوں کی ہے جو سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئے جن کی خبریں کچھ روز تک اخباروں اور ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر چھائی رہیں لیکن پھر ہم سب حسب روایت اپنے ان مصیبت زدہ بھائیوں کو بھول گئے اور آج جب سردی کا موسم سر پر آن پہنچا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ اب بھی سندھ اور بلوچستان میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں سیلاب کا پانی موجود ہے اور لوگ بے یارو مددگار ہیں۔ مٹھی بھر حکومتی امداد وقتی طور پر تو ان کے پاس پہنچ گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے ان کے مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آسکا جس کی وجہ ان کی کسمپرسی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ وقت بھی گزر جائے گا
یہ وقت بھی گزر جائے گا

کل (سوموار) ٹیلی ویژن کا عالمی دن منایا گیا۔ انیس سو چھیانوے میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رابطے، ترقی اور عالمگیریت کے فروغ میں ٹیلی ویژن کی کرداری اہمیت تسلیم کرتے ہوئے اکیس نومبر کو ٹی وی سے معنون کر دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ریڈیو وجود میں آیا اور دوسری دہائی میں ٹیلی ویژن کی پیدائش ہوئی۔ برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ انیس سو چوبیس میں ایک اسکاٹش انجینئر جان لوئی بئیرڈ نے تصاویر کو لہروں کے ذریعے ایک مشین سے دوسرے مشین تک ارسال کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ جب کہ امریکیوں کا دعوی ہے کہ فلو ٹیلر فارن ورتھ نامی لڑکا جس کے گھر میں بجلی بھی نہیں تھی۔ اسے پندرہ برس کی عمر میں خیال آیا کہ ایسا کیا جائے کہ متحرک تصاویر کو ریاضیاتی کوڈ میں بدل کے ریڈیائی لہروں کے ذریعے ایک ایسے آلے تک منتقل کیا جا سکے جو ان لہروں کو دوبارہ ڈی کوڈ کر کے اسکرین پر دکھا سکے۔ فارن ورتھ کی کوششیں اکیس برس کی عمر میں بر آئیں جب الیکٹرونک بیم کے ذریعے اس نے ڈالر کی تصویر اپنی بنائی ایک مشین سے دوسری مشین تک بھیجنے میں کامیابی حاصل کر لی۔

کیا ٹی وی تیسری سپر پاور ہے
کیا ٹی وی تیسری سپر پاور ہے

کیا کبھی کسی نے سنجیدگی سے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ عمران خان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ تمام سیاسی جماعتیں اپنے جملہ اختلافات کو فراموش کر کے یکجا ہونے کے باوجود تحریک انصاف کو شکست دینے میں کامیاب کیوں نہ ہو سکیں؟آپ کی آنکھوں میں سیاسی عصبیت کا موتیا اُتر آیا ہو یا پھر کبوتر کی طرح حقیقت سے آنکھیں چرانا چاہیں تو الگ بات ہے، ورنہ سچ یہی ہے کہ عمران خان مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ آپ اس بات پر جلتے اور کڑھتے رہیں کہ وہ خوابوں کے سوداگر ہیں، قوم کو گمراہ کر رہے ہیں مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان کا منجن ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک توڑا ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک میں نقب زنی کی ہے لیکن میری دانست میں انہوں نے جیالے اور متوالے مستعار لینے کے بجائے اپنے حصے کے بیوقوف جمع کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ برسہا برس سے پارلیمانی سیاست میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی مسلم لیگ (ن) ہو یا پھر پیپلز پارٹی ،ان کے ہاں تغیر و تبدل کو اہمیت نہیں دی گئی۔

عمران خان کی کامیابی کا راز؟
عمران خان کی کامیابی کا راز؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے نے ملک کو افراتفری کا شکار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ پہلے ہی قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ اس قسم کی پُرتشدد کارروائی ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔ ملک میں اس قسم کی کارروائی کو کسی صورت برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ اس ملک میں ویسے بھی سیاسی رہنماؤں کے قتل کی ایک دردناک تاریخ ہے۔ بے نظیر بھٹو کا قتل اب بھی قوم کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ عمران خان پر ہونے والے حملوں نے ان افراد کے خدشات کو درست ثابت کر دیا جو خبردار کر رہے تھے کہ کشیدہ سیاسی صورتحال تشدد کی جانب جارہی ہے۔ عمران خان تواتر کے ساتھ اپنی زندگی کو لاحق خطرات کا ذکر کر رہے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے فوری انتخابات کے مطالبے کے حوالے سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے اس حملے کے بعد سے پی ٹی آئی کارکنان کے غم و غصے میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے کئی شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے۔

ہمیں سیاسی سے زیادہ معاشی مسائل نے گھیرا ہوا ہے
ہمیں سیاسی سے زیادہ معاشی مسائل نے گھیرا ہوا ہے

پاکستان کا بنیادی مسئلہ عام آدمی کی طاقت سے جڑا ہوا ہے۔ یہ طاقت اسے آئین پاکستان میں حاصل ہے جو اس کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ عام آدمی کو سب سے بڑی توقع ہی اس ریاستی نظام میں موجود ان بنیادی حقوق سے ہوتی ہے جو اسے معاشرے کی سطح پر باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ عام یا کمزور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے حالات معاشی آسودگی کا شکار ہیں مگر ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے تو اس کے دکھوں کا مداوا ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ان مشکلات میں سیاسی طور پر تنہا نہیں بلکہ ریاست کا مجموعی نظام اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ سیاسی ، جمہوری ، قانونی اور آئینی نظام ہی معاشرے میں اپنی سیاسی ساکھ کو قائم کرتا ہے اور عام لوگوں کے نظام پر اعتماد کو بحال کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ معاشرے میں جو سیاسی، معاشی ، سماجی اور ملک میں انصاف کے نام پر جو تفریق یا دوہرا معیار یا طبقاتی فرق ہے اسے ختم کر کے ہی ہم حکومت اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو کم کر سکتے ہیں۔

طاقتور اشرافیہ کا پاکستان
طاقتور اشرافیہ کا پاکستان

ابھی تو ہمیں سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا ہی دو بڑے خطرے محسوس ہو رہے ہیں۔ مگر اگلے چند ماہ میں ان دونوں سے بھی بڑا ایک اور خطرہ سروں پے منڈلا رہا ہے۔ یعنی بھوک کا خطرہ۔ اگر حالیہ بارشوں اور سیلاب کے سبب لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ پاکستانی بے گھر نہ بھی ہوتے تب بھی خوراک کی آسمان سے چھوتی قیمتیں ستر فیصد پاکستانی گھرانوں کو اپنی ماہانہ کمائی کا پچاس فیصد صرف خوراک پر صرف کرنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ اس کا ایک بنیادی سبب گزشتہ ایک برس سے ہونے والی مسلسل مہنگائی ہے۔ بالخصوص خوراک کی قیمت اب ششماہی و ماہانہ کے پائیدان سے پھسل کر روزانہ کے مرحلے تک آن پہنچی ہے۔ عام آدمی کو کیسے سمجھائیں کہ بھیا یہ سب محض سرکاری نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ کوویڈ کی وبا، عالمی معیشت کی زبوں حالی، یوکرین روس مناقشہ، ڈالر کی مسلسل بڑھتی طاقت، تیل اور گیس کی قیمتوں اور موسمیاتی پاگل پن کے نتیجے میں پچھلے ایک برس میں عالمی سطح پر ہی خوراک کی قیمتیں اوسطاً چونتیس فیصد بڑھ چکی ہیں۔

مسئلہ فاقے کا نہیں لالچ کا ہے
مسئلہ فاقے کا نہیں لالچ کا ہے
Pakistan Affairs

Pakistan Affairs

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, …